اتوار 26 جولائی 2026 - 11:55
اربعین حسینیؑ عاشوراء کو زندہ و جاوید رکھنے کا عظیم مظہر!

حوزہ/ اربعینِ حسینی محض ایک ہجری تاریخ یا ایامِ عزاداری کا اختتام نہیں، بلکہ یہ اتحاد، اخوت، اتحادِ امت اور بے لوث محبت کی ایک ایسی طاقتور اور عالمگیر علامت ہے جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔

تحریر: عامر حسین کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی|

اربعینِ حسینی محض ایک ہجری تاریخ یا ایامِ عزاداری کا اختتام نہیں، بلکہ یہ اتحاد، اخوت، اتحادِ امت اور بے لوث محبت کی ایک ایسی طاقتور اور عالمگیر علامت ہے جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں، بلکہ کروڑوں لوگ تمام تر جغرافیائی، قومی اور لسانی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کربلا کی سمت قدم بڑھاتے ہیں۔ یہ عظیم الشان اجتماع حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفا شعار ساتھیوں کی عظیم ترین قربانی کو یاد کرنے اور ان کے آفاقی پیغام یعنی انصاف، حق گوئی، ظلم کے خلاف قیام اور انسانی ہمدردی کو دنیا میں زندہ و جاوید رکھنے کا ایک بے مثال ذریعہ ہے۔

اربعین کا اصل مقصد کربلا اور مقصدِ عاشورہ کو تاریخ کے صفحات میں گمنام ہونے سے بچانا اور اسے نسل در نسل منتقل کرنا ہے۔ ۱۰ محرم الحرام کو جو حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا تھا، اس کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا نام اربعین ہے۔ اس بابرکت موقع پر دنیا کے گوشے گوشے میں بسنے والے حسینی عاشقین اپنی عقیدت، محبت اور وفاداری کا خلوصِ دل سے اظہار کرتے ہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان کی بے مثال شہادت کی یاد کو دلوں میں تازہ اور زندہ رکھنے کے لیے مختلف دینی و مذہبی مراسم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ان مراسم میں ماتم، مجالسِ عزاداری، گریہ و زاری، اور آنسو بہانا شامل ہے، جو دلوں کی پاکیزگی اور حق سے وابستگی کی دلالت کرتے ہیں۔ بالخصوص اربعین کا پیدل جلوس اس کا سب سے بڑا عالمی اور جاویدانہ منظر پیش کرتا ہے، جہاں شاہ و گدا اور امیر و غریب ایک ہی صف میں شانہ بشانہ نظر آتے ہیں۔ لوگ بلا تفریقِ رنگ و نسل ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں، جو کہ انسان دوستی اور ایثار کی ایک عظیم ترین مثال ہے۔

یہ تمام مراسم اور اجتماع دنیا کے سامنے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ حسین ابنِ علی علیہ السلام کی فکر اور ان کا پیغام کسی خاص دور یا خطے کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔اربعین کا یہ عظیم الشان سفر اور عزاداری اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، بالآخر فتح حق اور قربانی ہی کی ہوتی ہے۔ یوں اربعینِ حسینی عاشورہ کے پیغام کو ہر عہد اور ہر نسل کے لیے زندہ، جاوید اور ابدی بناتا رہے گا۔

بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ التجا ہے کہ وہ تمام مشتاقین اور حسینیوں کے دلوں کی اس تمنا کو پورا فرمائے۔ پروردگار! ہمیں زیارتِ اربعین کی توفیق عطا فرما، ہمارے قلوب کو سیرتِ حسینی کے نور سے منور کر، اور ہمیں دنیا و آخرت میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شفاعت و قرب نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha